حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حرم حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے متولی آیت اللہ سید محمد سعیدی نے صوبہ ہرمزگان کے مدارس علمیہ کے مدیران اور حوزہ علمیہ کے صوبائی مرکز کے سربراہان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے طلبہ کو اپنے زمانے کے حالات اور تقاضوں سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے اور دینی اقدار و روایات کی حفاظت کے ساتھ معاشرے کے موجودہ مسائل کے حل کے لیے عملی صلاحیتیں حاصل کرنی چاہئیں۔
آیت اللہ سید محمد سعیدی نے معاشرتی حالات میں آنے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں علماء سے بعض مخصوص شعبوں، بالخصوص مساجد میں محدود کردار کی توقع کی جاتی تھی، لیکن آج عوام چاہتے ہیں کہ علماء معاشرے کے مختلف شعبوں میں مؤثر کردار ادا کریں اور روزمرہ کے اہم مسائل میں اپنا اثر دکھائیں۔ اگر علماء اہم اور بنیادی مسائل میں مؤثر کردار ادا نہ کر سکے تو عوام کی نظر میں ان کا مقام متاثر ہوگا۔
انہوں نے طلبہ کے لیے فنی اور سماجی علوم سے آگاہی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں معاشرے کے حالات سے بے خبری قابل قبول نہیں ہے۔ طلبہ کو فقہ و اصول کے ساتھ ساتھ موجودہ حالات اور عوام کی ضروریات سے بھی واقف ہونا چاہیے تاکہ وہ معاشرتی مسائل، خصوصاً خاندانی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح سمیت مختلف سماجی بحرانوں کا ذکر کرتے ہوئے خاندان کے نظام کی اصلاح میں علماء کی ذمہ داری پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کو صرف نظری اور تجریدی مباحث تک محدود رہنے کے بجائے خاندانی مسائل اور معاشرتی نقصانات کے ازالے کے لیے عملی حل پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ طلبہ کی تربیت اس انداز میں ہونی چاہیے کہ وہ خاندانوں کے درمیان اصلاح اور بہتری کا کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح اور خاندانی مسائل کے پیش نظر علماء پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مشیر اور مصلح کا کردار ادا کرتے ہوئے خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچانے میں مدد کریں۔ حوزہ علمیہ کو ایسے افراد تیار کرنے چاہئیں جو دینی اور سماجی علوم کی بنیاد پر خاندانوں میں محبت، الفت اور صلح قائم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
قم کے امام جمعہ نے حوزہ علمیہ کے نصاب میں ضرورت کے مطابق تبدیلی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’حوزہ علمیہ کی درسی کتابیں قرآن نہیں ہیں کہ ان میں تبدیلی ممکن نہ ہو۔ اگر کوئی کتاب آج کی فقہی اور سماجی ضروریات کا جواب نہیں دیتی تو اسے دانش مندی کے ساتھ تبدیل کیا جانا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ آج کا طالب علم ’’اپنے زمانے کا فرزند‘‘ ہونا چاہیے؛ یعنی وہ اپنی دینی اصالت اور بنیادی اقدار کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنا وقت ایسے طریقۂ کار اور صلاحیتیں سیکھنے میں صرف کرے جو ملک کے موجودہ مسائل کے حل میں مؤثر ثابت ہوں۔
آیت اللہ سعیدی نے مرجعیت اور رہبری کے مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای اور انقلاب اسلامی کی دیگر شخصیات کی عملی سیرت کو طلبہ کی تربیت کے لیے نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب کی قرآن و حدیث سے لے کر فقہ اور جدید علوم تک مختلف شعبوں پر غیر معمولی گرفت، علماء کے لیے مطلوبہ علمی معیار کی نشاندہی کرتی ہے۔
انہوں نے طلبہ کو قرآن و حدیث سے زیادہ گہرا تعلق قائم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی عمر اور وقت کی قدر کرتے ہوئے خود کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی عالمی حکومت کی راہ میں خدمت کے لیے تیار کرنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ